عیش و غم زندگی کے پھیرے ہیں
شب کی آغوش میں سویرے ہیں
مۓ کدے سے وفا کی منزل تک
ہم فقیروں کے ہیرے پھیرے ہیں
مجھ کو مت دیکھ یوں حقارت سے
ان کی زلفوں کی نرم چھاؤں میں
زندگی کے حسیں سویرے ہیں
میں ہوں معمار زندگی اے کیفؔ
دونوں عالم کے حسن میرے ہیں
کیف عظیم آبادی
No comments:
Post a Comment