Monday, 12 December 2016

نفس نفس میں ہوں اک بوئے صد گلاب لیے

نفس نفس میں ہوں اک بوئے صد گلاب لیے
میں جاگتا ہوں نگاہوں میں تیرے خواب لیے
ہمارے عہد کے لوگوں کو کیا ہوا یارو؟
وہ جی رہے ہیں مگر ریت کا سراب لیے
میں بھول سکتا نہیں حسرتِ نظر اس کی
وہ ایک شخص جو گزرا ہے اضطراب لیے
اداس رات کی تاریکیوں نے چھیڑا ہے
اب آ بھی جاؤ نگاہوں میں ماہتاب لیے
یہ چلچلاتی ہوئی دھوپ، جل رہا ہے بدن
گزر رہی ہے یونہی حسرت سحاب لیے

کیف عظیم آبادی

No comments:

Post a Comment