عقل مصروف نئے دہر کی تعمیر میں ہے
آدمی کارگہِ خنجر و شمشیر میں ہے
کتنے اشکوں سے ہے سیراب پری چہرۂ گل
کتنے تاروں کا لہو صبح کی تنویر میں ہے
وہ اشارہ جو خموشی سے جنم لیتا ہے
دل کئی ڈوبے ہیں تو عشق نے پائی ہے نمو
رنگ سو ابھرے ہیں تو حسن یہ تصویر میں ہے
اے خدا! جس پہ کِیا تھا ہمیں فردوس بدر
آدمیت کی دلیل ایک اسی تقصیر میں ہے
عدل گاہوں کے حوالے سے بسا ناحق بھی
دار پر ہے کوئی گردن، کوئی زنجیر میں ہے
ہم نے دیکھا تھا جو اک خواب سہانا شوکتؔ
اس کی ہلکی سی رمق بھی کہاں تعبیر میں ہے
شوکت واسطی
No comments:
Post a Comment