ہم بہر حال اک انداز الگ رکھتے ہیں
مشترک نغمہ سہی، ساز الگ رکھتے ہیں
شان و شوکت ہے حسینوں کی تو یکساں، لیکن
آپ کچھ شعبدۂ ناز الگ رکھتے ہیں
اور اڑ لیتے ہیں کچھ دور پرندے ایسے
نعرہ بازوں کے اک انبوہِ فراواں میں بھی
وہی اچھے ہیں، جو آواز الگ رکھتے ہیں
شوکتؔ اس اپنے سخن میں ہے طلسمِ معنی
ہم لب و لہجہ کا اعجاز الگ رکھتے ہیں
شوکت واسطی
No comments:
Post a Comment