کیوں پھول بن کے نازِ بہاراں اٹھائیے
مر جائیے کسی کا نہ احساں اٹھائیے
دوزخ بنائیے کسی ذرے کو توڑ کر
قطرہ نچوڑ کر کوئی طوفاں اٹھائیے
ساقی لبوں کا لمس ملا دے شراب میں
کر ہی نہ دیں رِہا کہ افاقہ جنوں کو ہے
ہنگامہ پھر کوئی پسِ زنداں اٹھائیے
ہم آئینہ ہیں،۔ آپ ہیں توقیرِ آئینہ
ہنس کر نقابِ رُوئے درخشاں اٹھائیے
قائل رہے نہ پھر کسی صحبت کا آدمی
محفل سے اس طرح نہ پشیماں اٹھائیے
شوکتؔ غزل تو یہ ہے کہ اپنے شعور سے
اس مہ جبیں کا لحنِ غزل خواں اٹھائیے
شوکت واسطی
No comments:
Post a Comment