یہ الگ بات کہ ہم تشنہ نظر جاتے ہیں
تیرے جلوے تو سرِ طور بکھر جاتے ہیں
دیکھ اے جانِ تغافل! کہ تِری محفل سے
اہلِ دل، اہلِ وفا، اہلِ نظر جاتے ہیں
تیری راہوں میں یہ آنکھوں کو بچھانے والے
مِینا و جام سے دن رات بہلنے والے
کعبہ و دَیر کی سرحد سے گزر جاتے ہیں
ہم نے دیکھا ہے تِری زلف سنور جانے سے
تیرے دیوانوں کے حالات سنور جاتے ہیں
ایک سا وقت کبھی رہ نہیں سکتا خاورؔ
دن بگڑتے ہیں، سنورتے ہیں، گزر جاتے ہیں
خاور زیدی
No comments:
Post a Comment