Thursday, 10 November 2016

یہ الگ بات کہ ہم تشنہ نظر جاتے ہیں

یہ الگ بات کہ ہم تشنہ نظر جاتے ہیں
تیرے جلوے تو سرِ طور بکھر جاتے ہیں
دیکھ اے جانِ تغافل! کہ تِری محفل سے
اہلِ دل، اہلِ وفا، اہلِ نظر جاتے ہیں
تیری راہوں میں یہ آنکھوں کو بچھانے والے
تیری ہی بزم سے بادیدۂ نم جاتے ہیں
مِینا و جام سے دن رات بہلنے والے
کعبہ و دَیر کی سرحد سے گزر جاتے ہیں
ہم نے دیکھا ہے تِری زلف سنور جانے سے
تیرے دیوانوں کے حالات سنور جاتے ہیں
ایک سا وقت کبھی رہ نہیں سکتا خاورؔ
دن بگڑتے ہیں، سنورتے ہیں، گزر جاتے ہیں

خاور زیدی

No comments:

Post a Comment