Tuesday, 3 January 2017

جشن قرب یار کا دل پر نشہ رہ جائے گا

جشنِ قربِ یار کا دل پر نشہ رہ جائے گا
شب گزر جائے گی لیکن رت جگا رہ جائے گا
پھول ہے تو میرے دل کا اور میں خوشبو تری
شاخ سے ٹوٹے اگر دونوں میں کیا رہ جائے گا
میں تو سمجھا تھا گلے ملنے سے دل مل جائیں گے
کیا خبر تھی پھر بھی کوئی فاصلہ رہ جائے گا
ہم کہاں بھولیں گے اپنے دل کے ارمانوں کا خون
یاد بن کر آپ کا رنگِ حنا رہ جائے گا
تھک کے گر ہی جائے گی رقاصۂ تہذیبِ نو
مور جنگل کا ہمیشہ ناچتا رہ جائے گا
جل بجھے گی ایک دن قندیلِ قصرِ آگہی
ضوفشاں لیکن چراغِ مۓ کدہ رہ جائے گا
اب نہیں اس شہر پر خاورؔ نزولِ دوستی
ہاتھ جو تو نے بڑھایا ہے بڑھا رہ جائے گا

خاور زیدی

No comments:

Post a Comment