Tuesday, 3 January 2017

کوثر چشم کے بہتے ہوئے دھارے لے کر

کوثرِ چشم کے بہتے ہوئے دھارے لے کر
تیری جنت سے میں نکلا ہوں ستارے لے کر
بے کراں لگتا ہے اب مجھ کو یہ دریائے فراق
جانے کس سمت گیا ہے وہ کنارے لے کر
اب یہ سوچا ہے کہ گر گر کے سنبھلنا اچھا
کچھ وقار نہ آیا چلنے میں سہارے لے کر
تجھ سے خوش ہیں تجھے جینے کی دعا دیتے ہیں
تحفتاً درد تِرے ہجر کے مارے لے کر
عہد و پیماں پہ بھلا کیوں نہ کریں اب ماتم
وہ مخالف ہوا سب راز ہمارے لے کر
تجھ سے مل کر بڑے مسرور ہیں خاورؔ زیدی
ہنس پڑے جیسے کوئی بچہ غبارے لے کر

خاور زیدی

No comments:

Post a Comment