میں اپنی راہ کی دیوار کیوں ہوں
ابھی تک صاحبِ کردار کیوں ہوں
غبار اٹھے جہاں بھی پاؤں رکھوں
نہ جانے فرشِ گل پر بار کیوں ہوں
جہاں سب کے بھرم ٹوٹے پڑے ہیں
جہاں شمع تکلم بجھ چکی ہے
وہاں میں حرفِ شعلہ بار کیوں ہوں
زبانِ غیر جانے کیا بتائے
وہ خود پوچھے کہ میں بیمار کیوں ہوں
خاور زیدی
No comments:
Post a Comment