ان کی خوشی یہی ہے تو اچھا یونہی سہی
الفت کا نام آج سے دیوانگی سہی
ہر چند نامراد ہوں پھر بھی ہوں کامیاب
کوشش تو کی ہے، کوششِ برباد ہی سہی
غنچوں کے دل سے پوچھئے لطفِ شگفتگی
جب چھِڑ گئی ہے کاکلِ سب رنگ کی غزل
ایسے میں اک قصیدۂ رخسار بھی سہی
ماہرؔ سے اجتناب نہ فرمائیں اہلِ دل
اچھوں کے ساتھ گنہ گار بھی سہی
ماہر القادری
No comments:
Post a Comment