اے نگاہِ دوست یہ کیا ہو گیا کیا کر دیا
پہلے پہلے روشنی دی پھر اندھیرا کر دیا
آدمی کو دردِ دل کی قدر کرنی چاہیۓ
زندگی کی تلخیوں میں لطف پیدا کر دیا
اس نگاہ شوق کی تیر افگنی رکھی رہی
انکی محفل کے تصور نے پھر انکی یاد نے
میرے غم خانہ کی رونق کو دوبالا کر دیا
میکدے کی شام اور کانپتے ہاتھوں میں جام
تشنگی کی خیر ہو یہ کس کو رسوا کر دیا
ماہر القادری
No comments:
Post a Comment