وہ تیرے حال سے غافل دلِ ناشاد نہیں
وہ یہ کہتے ہیں مجھے فرصتِ بیداد نہیں
مسکراتے ہوئے پھولوں نے کہا شبنم سے
فطرتِ غم سے یہاں کوئی بھی آزاد نہیں
میں کہ خود اپنی جگہ پر بھی نہیں ہوں موجود
میری ہر بات پہ چہرہ متغیر کیوں ہے
تم تو کہتے تھے کوئی بات مجھے یاد نہیں
جانے کیا اسکی نگاہوں نے فسوں پھونک دیا
دل کسی طرح بھی آمادۂ فریاد نہیں
میں تڑپتا ہوں فقط لطف کی خاطر ماہرؔ
وہ سمجھتے ہیں کہ دل تشنۂ بیداد نہیں
ماہر القادری
No comments:
Post a Comment