آج کا جو کام تھا کل پر اٹھا کر رکھ دیا
میں نے یوں ہر قیمتی موقع گنوا کر رکھ دیا
جس طرف بھی دیکھیے بس جوکروں کی بھیڑ ہے
آپ نے تو ملک کو سرکس بنا کر رکھ دیا
لڑ رہا تھا ظلمت شب سے اکیلا اک چراغ
سر پھری آندھی نے اس کو بھی بجھا کر رکھ دیا
کیسے ہو گی سرخرو دنیا میں آخر ایسی قوم
جس نے احکام الٰہی کو بھلا کر رکھ دیا
کیوں میں تیرے عشق کا ہر سو ڈھنڈورا پیٹتا
قیمتی سامان تھا دل میں چھپا کر رکھ دیا
آ رہے ہیں اب وہ اقرار محبت کے لیے
دوستوں نے جب مجھے نہلا دھلا کر رکھ دیا
پیٹ کی خاطر کسی نے بیچ ڈالی آبرو
آج اس منظر نے تابش کو ہلا کر رکھ دیا
تابش ریحان
No comments:
Post a Comment