Wednesday, 7 April 2021

آج کا جو کام تھا کل پر اٹھا کر رکھ دیا

آج کا جو کام تھا کل پر اٹھا کر رکھ دیا

میں نے یوں ہر قیمتی موقع گنوا کر رکھ دیا

جس طرف بھی دیکھیے بس جوکروں کی بھیڑ ہے

آپ نے تو ملک کو سرکس بنا کر رکھ دیا

لڑ رہا تھا ظلمت شب سے اکیلا اک چراغ

سر پھری آندھی نے اس کو بھی بجھا کر رکھ دیا

کیسے ہو گی سرخرو دنیا میں آخر ایسی قوم

جس نے احکام الٰہی کو بھلا کر رکھ دیا

کیوں میں تیرے عشق کا ہر سو ڈھنڈورا پیٹتا

قیمتی سامان تھا دل میں چھپا کر رکھ دیا

آ رہے ہیں اب وہ اقرار محبت کے لیے

دوستوں نے جب مجھے نہلا دھلا کر رکھ دیا

پیٹ کی خاطر کسی نے بیچ ڈالی آبرو

آج اس منظر نے تابش کو ہلا کر رکھ دیا


تابش ریحان

No comments:

Post a Comment