ہم اٹھتے بیٹھتے
ہر لمحہ خواب دیکھتے ہیں
زمیں پہ حد نظر تک
گلاب دیکھتے ہیں
یہ اپنا ذوق طلسم نظر ہے
جس کے طفیل
سیاہ راتوں میں بھی
آفتاب دیکھتے ہیں
کڑکتی دھوپ میں اٹھتا ہے
ہمتوں کا خمیر
وہ کم نظر ہیں جو ہر دم
سراب دیکھتے ہیں
سمندروں پہ حکومت
ہمارا آئین ہے
وہ ہم قبیلہ نہیں
جو سراب دیکھتے ہیں
باقر نقوی
No comments:
Post a Comment