Wednesday, 7 April 2021

ہم اٹھتے بیٹھتے ہر لمحہ خواب دیکھتے ہیں

ہم اٹھتے بیٹھتے 

ہر لمحہ خواب دیکھتے ہیں 

زمیں پہ حد نظر تک 

گلاب دیکھتے ہیں 

یہ اپنا ذوق طلسم نظر ہے 

جس کے طفیل 

سیاہ راتوں میں بھی 

آفتاب دیکھتے ہیں 

کڑکتی دھوپ میں اٹھتا ہے 

ہمتوں کا خمیر 

وہ کم نظر ہیں جو ہر دم 

سراب دیکھتے ہیں 

سمندروں پہ حکومت 

ہمارا آئین ہے 

وہ ہم قبیلہ نہیں 

جو سراب دیکھتے ہیں 


باقر نقوی 

No comments:

Post a Comment