Wednesday, 7 April 2021

خرد تو ویسے ہی الجھی رہی سوالوں میں

 خِرد تو ویسے ہی اُلجھی رہی سوالوں میں 

زموزِ عشق کو رکھا گیا دھمالوں میں 

ہماری خانہ خرابی میں رنگ بھر دے گا

ہمارا بیٹھنا اُٹھنا خراب حالوں میں 

تمہارے ساتھ کسی اور کو نہیں سوچا 

بڑے خیال سے رکھا تمہیں خیالوں میں 

جہاں بھی لوگ محبت کا ذکر چھیڑیں گے

ہمارا نام ضرور آئے گا حوالوں میں 

تمہارے حُسن کو ہر زاویے سے دیکھنا ہے 

کبھی اندھیرے میں ملنا کبھی اُجالوں میں 

تمہارا چہرہ کبھی  چاند کو دکھاؤں گا 

پھر ایک چٹکی بھروں گا تمہارے گالوں میں 

یہ میرا دل ہے جسے پھول کہہ رہی ہو 

کہو تو پھول سجا دوں تمہارے بالوں میں 

علاج  اُس کا محبت ہے، اور وہ  لڑکی

فضول دوڑتی پھرتی ہے اسپتالوں میں


شبیر احمد حمید

No comments:

Post a Comment