Wednesday, 7 April 2021

مشکل دن بھی آئے لیکن فرق نہ آیا یاری میں

 مشکل دن بھی آئے لیکن فرق نہ آیا یاری میں

ہم نے پوری جان لگائی اس کی تابعداری میں

بے ایمانی کرتے تو پھر شاید جیت کے آ جاتے

چاہے ہار کے واپس آئے کھیلے اپنی باری میں

میٹھے میٹھے ہونٹ ہلائے کڑوی کڑوی باتیں کی

کیکر اور گلاب لگایا اس نے ایک کیاری میں

تیری جانب اٹھنے والی آنکھوں کا رخ موڑ لیا

ہم نے اپنے عیب دکھائے تیری پردہ داری میں

جانے اب وہ کس کے ساتھ نکلتا ہو گا راتوں کو

جانے کون لگاتا ہو گا دو گھنٹے تیاری میں


دانش نقوی

No comments:

Post a Comment