مشکل دن بھی آئے لیکن فرق نہ آیا یاری میں
ہم نے پوری جان لگائی اس کی تابعداری میں
بے ایمانی کرتے تو پھر شاید جیت کے آ جاتے
چاہے ہار کے واپس آئے کھیلے اپنی باری میں
میٹھے میٹھے ہونٹ ہلائے کڑوی کڑوی باتیں کی
کیکر اور گلاب لگایا اس نے ایک کیاری میں
تیری جانب اٹھنے والی آنکھوں کا رخ موڑ لیا
ہم نے اپنے عیب دکھائے تیری پردہ داری میں
جانے اب وہ کس کے ساتھ نکلتا ہو گا راتوں کو
جانے کون لگاتا ہو گا دو گھنٹے تیاری میں
دانش نقوی
No comments:
Post a Comment