جو خود ناشاد رہ کر دوسروں کو شاد رکھتے ہیں
حقیقت میں وہی ویرانیاں آباد رکھتے ہیں
کسی کے ظرف نے یہ فلسفہ ہم کو سکھایا ہے
جسے پابند رکھنا ہو اسے آزاد رکھتے ہیں
محبت کے بنا میں قیدِ تنہائی میں رہتا ہوں
وہ اپنی قید میں لے کر مجھے آزاد رکھتے ہیں
صداقت کس طرح مانوں میں ایسے اہلِ دل کی جو
خدا کو بھُول جاتے ہیں، صنم کو یاد رکھتے ہیں
عابد بنوی
No comments:
Post a Comment