یہ جو تکرار ہے ہمارے بیچ
آخری بار ہے ہمارے بیچ
تازہ سرخی ہے اس کے ہونٹوں پر
کل کا اخبار ہے ہمارے بیچ
سال میں ایک دو ملاقاتیں
کس قدر پیار ہے ہمارے بیچ
کچھ دکانیں ہیں رشتے داروں کی
ایک بازار ہے ہمارے بیچ
کتنا آسان ہے کہ کچھ نہ کریں
یہ بھی دشوار ہے ہمارے بیچ
کچھ تو ہوتا ہے اس کو دیکھنے سے
کوئی تو تار ہے ہمارے بیچ
پہلے جیسا نہیں رہوں گا میں
صلح بے کار ہے ہمارے بیچ
ضیا مذکور
No comments:
Post a Comment