Wednesday, 24 March 2021

ان کے ناز و نخرے توبہ

 اُن کے ناز و نخرے توبہ

پائل پہنے غمزے توبہ

آنکھوں کا وہ کاجل اُف اُف

ہیچ و خم زُلفوں کے توبہ

بستی بستی ڈُھونڈ رہا تھا

قاتل کے وہ حربے توبہ

اندر دل میں ہُو کا عالم

باہر دل کے جلوے توبہ

کون یقین کرے گا مجھ پر

جھُوٹی قسمیں، وعدے توبہ

وہ معصوم جوانی ہائے

جذبوں کے یہ شعلے توبہ

بات نہ مانے اپنی کوئی

باتوں پر بھی پہرے توبہ

پچھلے لوگ صداقت والے

اہلِ جہاں یہ اگلے توبہ

خیر کرے رب تُو بھی راشف

کیا کیا صُورت بدلے توبہ


راشف عزمی

No comments:

Post a Comment