پوچھ عشق ہے یا جنوں ہے یہ
یا کسی نظر کا فسوں ہے یہ
رنگ ہے کہ آتش ہے موجزن
یا چراغ غلطاں بخوں ہے یہ
اک سکوت رقصاں ہے چار سُو
اور درختوں میں کیا سکوں ہے یہ
یہ ہے وادئ شوق کا فقیر
اور عشق کا رہ نموں ہے یہ
اک طلسم ہے ہر نگاہ میں
کوئی عالمِ پُر فسوں ہے یہ
اک کرشمہ ہے یہ جہانِ دل
اک عمارتِ بے ستوں ہے یہ
یاں کہ حضرتِ قیس دفن ہیں
یعنی بارگاہِ جنوں ہے یہ
راشف عزمی
No comments:
Post a Comment