کوئی دعا نہ ہی کوئی سلام شہزادی
مِرا خدا تمہیں بخشے دوام شہزادی
تراش و رنگِ بدن کا اتار دو صدقہ
سراپا حسن ہے ماہِ تمام شہزادی
کسی کے حسنِ تغافل کا کھینچ کر نقشہ
کہ بامِ ہجر پہ روتی ہے شام شہزادی
حضورِ بُو علی میں ناچ کر کوئی جوگن
سنا ہے گاتی ہے میرا کلام شہزادی
گھر آتے شام ہوئی، روح نے کیا آخر
سرائے وحشتِ جاں میں قیام شہزادی
لَویں چراح کی نگلتے دیکھا خواب میں سانپ
عدو کی صف میں ہے شامل غلام شہزادی
بہارِ حسن کی رعنائیاں خدا رکھے
کہ حسن بِکتا ہے کوڑی کے دام شہزادی
مِرے ہی دست پہ بیعت کی اہلِ قریہ نے
جنون زادوں کا میں ہوں امام شہزادی
راشف عزمی
No comments:
Post a Comment