کچھ بھی مت یاد دلاؤ مجھ کو
جانا ہے چھوڑ کے جاؤ مجھ کو
اے مِرے خواب چُرانے والو
اس کی آنکھوں سے مِٹاؤ مجھ کو
یہ محبت تو فقط دھوکا ہے
مت کوئی خواب دِکھاؤ مجھ کو
دُکھ تو سہہ لوں گا مگر اے دنیا
اس کے لہجے میں ستاؤ مجھ کو
اب مجھے دُھوپ کی حِدت چاہیے
چھاؤں دے کر نہ جلاؤ مجھ کو
دُکھ کہاں تجھ کو بچھڑنے کا تھا
اب تو پاگل نہ بناؤ مجھ کو
عرفان شاہد
No comments:
Post a Comment