Monday, 17 October 2022

کچھ بھی مت یاد دلاؤ مجھ کو

کچھ بھی مت یاد دلاؤ مجھ کو

جانا ہے چھوڑ کے جاؤ مجھ کو

اے مِرے خواب چُرانے والو

اس کی آنکھوں سے مِٹاؤ مجھ کو

یہ محبت تو فقط دھوکا ہے

مت کوئی خواب دِکھاؤ مجھ کو

دُکھ تو سہہ لوں گا مگر اے دنیا

اس کے لہجے میں ستاؤ مجھ کو

اب مجھے دُھوپ کی حِدت چاہیے

چھاؤں دے کر نہ جلاؤ مجھ کو

دُکھ کہاں تجھ کو بچھڑنے کا تھا

اب تو پاگل نہ بناؤ مجھ کو


عرفان شاہد

No comments:

Post a Comment