Monday, 17 October 2022

انسانوں کی بھیڑ میں رستہ بھول گئی

 گیت


انسانوں کی بھیڑ میں رستہ بھول گئی

دیوانوں کی بھیڑ میں رستہ بھول گئی

راستہ بھوک گئی، بھول گئی


ہر پل تیرا سپنا میری آنکھیں ہیں

دل ہے میرا اپنا، تیری یادیں ہیں

جب سے تجھ کو دیکھا رستہ بھول گئی

انسانوں کی بھیڑ میں رستہ بھول گئی


یہ کیسا جادو ہے، کیسے راستے ہیں

بند آنکھوں سے راہی سارے چلتے ہیں

چلتے چلتے ڈور پہ رستہ بھول گئی

انسانوں کی بھیڑ میں رستہ بھول گئی


دل کے دل سے جانے کیسے رشتے ہیں

گم سم راہوں پہ سائے چلتے ہیں

تنہا تنہا میں رستہ بھول گئی

انسانوں کی بھیڑ میں رستہ بھول گئی


خاور کیانی

No comments:

Post a Comment