Monday, 17 October 2022

میں صرف اپنا نہیں سب کا درد جانتا ہوں

 ہرا کہاں ہے کہاں لاجورد جانتا ہوں

میں صرف اپنا نہیں سب کا درد جانتا ہوں

جو تُو نے مار دئیے ان کا بھی پتہ ہے مجھے

سسک رہا ہے جو، اک ایک فرد جانتا ہوں

ہماری چیخوں پہ تُو نے، ہماری ہچکیوں پر

کہاں کہاں سے اچھالی ہے گرد جانتا ہوں

شکم کی آگ کو دیتا ہے تُو ہوا کیسے

تُو کیسے کرتا ہے جسموں کو سرد جانتا ہوں

کہاں پہ تُو نے مجھے چھوڑنے کا سوچا تھا

کہاں ہوا تھا تِرا رنگ زرد، جانتا ہوں

یہ شہر کوفے سے بڑھ کر ہے بیوفا، بے حس

تُو غم نہ کر دلِ حیرت نورد! جانتا ہوں

ہے کون کون مِرے ساتھ سب پتہ ہے مجھے

ہے کون کون مِرا ہم نبرد جانتا ہوں

وہ نرم خو جسے آتا ہو لڑنا ظالم سے

میں اس طرح کے بہادر کو مرد جانتا ہوں


فرحت عباس شاہ

No comments:

Post a Comment