کہیں بھی حُسن کو دیکھا تو یاد آئے تم
کسی بھی باغ سے گزرا تو یاد آئے تم
میں اپنی سوچ میں کھویا ہوا تھا گھنٹوں سے
کسی نے آ کے جھنجھوڑا تو یاد آئے تم
بھلے نہ پیار سے دیکھا کبھی ہمیں تم نے
کسی نے پیار سے دیکھا تو یاد آئے تم
تمھاری یاد سے ٹکرا کے گر پڑا تھا میں
کسی نے آ کے اُٹھایا تو یاد آئے تم
ہمارے بیچ کے دریا کے اِس کنارے سے
تمھارے دیس کو دیکھا تو یاد آئے تم
مشاعرے میں کسی کی حسین آنکھوں پر
کسی نے شعر سنایا تو یاد آئے تم
عثمان لیاقت
No comments:
Post a Comment