Sunday, 12 April 2026

کوئی تو پھول کسی شاخ سے پکارے مجھے

کوئی تو پھول کسی شاخ سے پکارے مجھے

پسند آتے ہیں خوشبو کے استعارے مجھے

مجھی سے عام ہوا ہے یہ شہر میں اور تم

سکھا رہے ہو محبت کا کھیل پیارے، مجھے

وہ دیکھتا رہے ہر حال میں مرا رستہ

وہ اپنی آنکھ کے ہر خواب سے گزارے مجھے

میں پانیوں کی تہوں میں تمام ہو رہا ہوں

سمندروں نے دکھائے نہیں کنارے مجھے

نظر کے سارے مناظر اُلٹ کے دیکھتا ہوں

کسی طرح تو بسر کر سکیں نظارے مجھے

مگر ہوا نے مری راہ روک رکھی تھی

چراغ طاق سے کرتے رہے اشارے مجھے


عدنان منور

No comments:

Post a Comment