Saturday, 12 December 2020

وہ جس کا عکس لہو کو جگا دیا کرتا

 وہ جس کا عکس لہو کو جگا دیا کرتا

میں خواب خواب میں اس کو صدا دیا کرتا

قریب آتی جو تاریخ اس کے ملنے کی

وہ اپنے وعدے کی مدت بڑھا دیا کرتا

میں زندگی کے سفر میں تھا مشغلہ اس کا

وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کے مجھ کو گنوا دیا کرتا

اسے سمیٹتا میں جب بھی ایک نقطے میں

وہ میرے دھیان میں تتلی اڑا دیا کرتا

اسی کے گاؤں کی راہوں میں بیٹھ کر ہر روز

میں دل کا حال ہوا کو سنا دیا کرتا

مجھے وہ آنکھ میں رکھ کر شمار پچھلی شب

عجب خمار میں پلکیں گرا دیا کرتا

نہ چھیڑ مجھ کو زمانہ وہ اور تھا جس میں

فقیر گالی کے بدلے دعا دیا کرتا


اختر شمار

No comments:

Post a Comment