Friday, 11 December 2020

رنج گران شوق کا حاصل نہ کہہ اسے

 رنج گران شوق کا حاصل نہ کہہ اسے

ترک سفر کیا ہے تو منزل نہ کہہ اسے

یہ ضبط ضبط غم نہیں اک بے دلی سی ہے

یہ دل حریف درد نہیں دل نہ کہہ اسے

طغیانیاں کچھ اور ہیں موجوں میں ریت کی

میں ڈوبتا ہوں عشرتِ ساحل نہ کہہ اسے

مرتا نہیں ہوں موت کی بےحاصلی پہ میں

جیتا اگر ہوں الفتِ حاصل نہ کہہ اسے

ملنا سفر کا اور بچھڑنا سفر کا ہے

دنیا تو رہ گزار ہے محفل نہ کہہ اسے


مغنی تبسم

No comments:

Post a Comment