ہم جو عفریت نہیں تھے
اشرفیاں گنتے ہاتھوں نے
تنے کی چھال پہ لکھنا سیکھا
چابیوں کے گچھے اونٹوں پہ لادے
اور کمینگی دل کی کوہان پہ
ہم نے جین مت کی کہانی
گوشت کے پارچوں پہ لکھی
اور وِشنو کو ناشتے میں آملیٹ کھلایا
ہم نے نفرت ایجاد کر کے
اس کو عادت بنایا
تعلق کی زمین میں اس کا بیج بو کر
ہماری پاکیزگی
ہماری داڑھیوں میں الجھ گئی
ہم نے عزازیل کو فیڈر پلایا
اور ہم استنجا کرتے کرتے
بیت الخلا پہ قابض ہو گئے
ہمیں مسکراہٹ ملی چہرے پر
سو ہم نے نفرت کے چاک پہ
محبت کی اداکاری کے جوہر دکھائے
ہم نے روغنِ زیتون استعمال کیا
اپنی دُموں کی مالش کے لیے
اور زمین پر اکڑ کے چلنے لگے
ہم نے نرماہٹ کے پرندے کو
اپنی زندگی سے رخصت کر دیا
ہم ابراہا کے لشکر کے ہاتھی ہیں
اور آسمان ابابیلوں سے خالی ہے
ثاقب ندیم
No comments:
Post a Comment