Sunday, 3 April 2022

ہم جو عفریت نہیں تھے

 ہم جو عفریت نہیں تھے


اشرفیاں گنتے ہاتھوں نے

تنے کی چھال پہ لکھنا سیکھا

چابیوں کے گچھے اونٹوں پہ لادے

اور کمینگی دل کی کوہان پہ

ہم نے جین مت کی کہانی

گوشت کے پارچوں پہ لکھی 

اور وِشنو کو ناشتے میں آملیٹ کھلایا

ہم نے نفرت ایجاد کر کے

اس کو عادت بنایا 

تعلق کی زمین میں اس کا بیج بو کر

ہماری پاکیزگی

ہماری داڑھیوں میں الجھ گئی

ہم نے عزازیل کو فیڈر پلایا

اور ہم استنجا کرتے کرتے

بیت الخلا پہ قابض ہو گئے

ہمیں مسکراہٹ ملی چہرے پر 

سو ہم نے نفرت کے چاک پہ

محبت کی اداکاری کے جوہر دکھائے

ہم نے روغنِ زیتون استعمال کیا

اپنی دُموں کی مالش کے لیے

اور زمین پر اکڑ کے چلنے لگے

ہم نے نرماہٹ کے پرندے کو

اپنی زندگی سے رخصت کر دیا 

ہم ابراہا کے لشکر کے ہاتھی ہیں

اور آسمان ابابیلوں سے خالی ہے


ثاقب ندیم

No comments:

Post a Comment