یہ ایک بات سمجھنے میں رات ہو گئی ہے
میں اس سے جیت گیا ہوں کہ مات ہو گئی ہے
میں اب کے سال پرندوں کا دن مناؤں گا
مِری قریب کے جنگل سے بات ہو گئی ہے
بدن میں ایک طرف دن طلوع میں نے کیا
بچھڑ کے تجھ سے نہ خوش رہ سکوں گا سوچا تھا
تِری جدائی ہی وجہِ نشاط ہو گئی ہے
میں جنگلوں کی طرف چل پڑا ہوں چھوڑ کے گھر
یہ کیا کہ گھر کی اداسی بھی ساتھ ہو گئی ہے
رہے گا یاد مدینے سے واپسی کا سفر
میں حمد لکھنے لگا تھا کہ نعت ہو گئی ہے
تہذیب حافی
No comments:
Post a Comment