Saturday, 20 March 2021

یقین ٹوٹے محبت کا ہر گماں ٹوٹے

 یقین ٹُوٹے، محبت کا ہر گماں ٹُوٹے

ہمارے سینے میں اک تیرِ بے کماں ٹوٹے

بس ایک بار ہی ٹوٹے تجھے مناتے ہوئے 

پھر اس کے بعد مِرے حوصلے کہاں ٹوٹے

تمہاری آنکھوں میں بے موسمی اندھیرا ہو

تمہاری نیند بھی خوابوں کے درمیاں ٹوٹے

اٹھانا چاہتے ہو بار اس کی نخوت کا

خیال رکھنا، نہ شانہ یہ ناتواں ٹوٹے

خوشی کے وقت ہو دریا میں ایک گہری چپ

کسی کی چیخ سے کشتی کا بادباں ٹوٹے

کسی کے پہلو میں گزرے حیات کا موسم

کسی کے پہلو میں آخر یہ داستاں ٹوٹے

مِرے سماج کی کلیوں کو نوچنے والو

زمین دُور ہٹے، تم پہ آسماں ٹوٹے

تُو ایک دل کو دہر! کب تلک بچائے گا

کبھی نہ ٹوٹنے والے بھی ناگہاں ٹوٹے


دہر کاظمی

No comments:

Post a Comment