آئینہ⌗ سے کب تلک تم اپنا دل بہلاؤ گے
چھائیں گے جب جب اندھیرے خود کو تنہا پاؤ گے
آرزو، ارمان، خواہش، جستجو، وعدے، وفا
دل لگا کر تم زمانہ بھر کے دھوکہ کھاؤ گے
ہر حسیں منظر سے یارو! فاصلہ قائم رکھو
چاند گر دھرتی پہ اُترا دیکھ کر ڈر جاؤ گے
زندگی کے چند لمحہ خود کی خاطر بھی رکھو
بھیڑ میں ہر دم رہے تو خود بھی گم ہو جاؤ گے
اس گلی میں جا رہے ہو عشق ہے رُسوا جہاں
سوچ لو پھر سوچ لو، پچھتاؤ گے، پچھتاؤ گے
دنیش ٹھاکر
No comments:
Post a Comment