Thursday, 11 November 2021

جب سے ہم بدنام بہت ہیں

 جب سے ہم بدنام بہت ہیں

ہم سے جہاں کو کام بہت ہیں

آئینے میں کیا کیا دیکھیں

اک چہرہ اور نام بہت ہیں

لا سورج کرنوں کی سولی

راتوں پر الزام بہت ہیں

لینا ہو تو لے لو دعائیں

درویشوں کو کام بہت ہیں

میرے جیسے لوگ بہت کم

البتہ ہمنام بہت ہیں

شاعر کی پہچان نہ پوچھو

گمناموں کے نام بہت ہیں

ڈر ہے کہیں پہچان نہ کھو دے

اب صولت کے نام بہت ہیں


صولت امام زیدی

No comments:

Post a Comment