Thursday, 11 November 2021

سینوں میں دبی چیخیں

 سینوں میں دبی چیخیں

بہروں نے سنی چیخیں

بستر پہ جدائی کے

تکیے میں بھری چیخیں

ہر خواب ادھورا ہے

آدھی ہیں مِری چیخیں

فُرقت کے جنم دن پر

تحفے میں ملی چیخیں

اک بھیڑ میں نکلی ہیں

برسوں سے رکی چیخیں

ہنستے ہوئے چہروں کے

پیچھے ہیں چھپی چیخیں

یا نقص ہے کانوں میں

یا گونگی مِری چیخیں


ايہاب شريف

No comments:

Post a Comment