سینوں میں دبی چیخیں
بہروں نے سنی چیخیں
بستر پہ جدائی کے
تکیے میں بھری چیخیں
ہر خواب ادھورا ہے
آدھی ہیں مِری چیخیں
فُرقت کے جنم دن پر
تحفے میں ملی چیخیں
اک بھیڑ میں نکلی ہیں
برسوں سے رکی چیخیں
ہنستے ہوئے چہروں کے
پیچھے ہیں چھپی چیخیں
یا نقص ہے کانوں میں
یا گونگی مِری چیخیں
ايہاب شريف
No comments:
Post a Comment