Monday, 13 December 2021

لہو کا ہنر آزماتے رہیں گے

 لہو کا ہنر آزماتے رہیں گے

چراغ آندھیوں میں جلاتے رہیں گے 

زمانہ ستم ہم پہ ڈھاتا رہے گا 

ہر اک غم پہ ہم مسکراتے رہیں گے 

سماں ہو خوشی کا یا غم کا ہو موسم 

ہم اپنا فسانہ سناتے رہیں گے 

رہیں گے رواں میری آنکھوں سے آنسو 

ستارے یوں ہی جھلملاتے رہیں گے 

نہ بدلے گی جب تک فضا گلستاں کی 

ہم اپنے لہو میں نہاتے رہیں گے 

مسلط کہاں تک رہیں گے اندھیرے 

مِرے زخمِ دل جگمگاتے رہیں گے 

محبت کے دشمن ہیں جتنے بھی نجمہ

انہیں آئینہ ہم دکھاتے رہیں گے 


نجمہ انصار

No comments:

Post a Comment