Thursday, 14 January 2021

گئی ہے شام ابھی زخم زخم کر کے مجھے

 گئی ہے شام ابھی زخم زخم کر کے مجھے 

اب اور خواب نہیں دیکھنے سحر کے مجھے 

ہوں مطمئن کہ ہوں آسودۂ غم جاناں 

مجال کیا کہ خوشی دیکھے آنکھ بھر کے مجھے 

کہاں ملے گی بھلا اس ستم گری کی مثال 

ترس بھی کھاتا ہے مجھ پر تباہ کر کے مجھے 

میں رہ نہ جاؤں کہیں تیرا آئینہ بن کر 

یہ دیکھنا نہیں اچھا سنور سنور کے مجھے 

ان آنسوؤں سے بھلا میرا کیا بھلا ہو گا 

وہ میرے بعد جو رویا بھی یاد کر کے مجھے 

کھلا بھی اب درِ زنداں تو جاؤں گا میں کہاں 

کہ راستے ہی نہیں یاد اپنے گھر کے مجھے 

ہنر وری فقط اعزاز بخش کب ہے وقار

چکانے پڑتے ہیں کچھ قرض بھی ہنر کے مجھے 


وقار مانوی

No comments:

Post a Comment