Saturday, 7 November 2026

تمہیں اپنوں نے سمجھا ہے نہ بیگانے سمجھتے ہیں

 تمہیں اپنوں نے سمجھا ہے نہ بیگانے سمجھتے ہیں

سمجھتے ہیں تو کچھ ہم جیسے دیوانے سمجھتے ہیں

تِری محفل کا ہر پیمانہ🍷، پیمانہ سہی، لیکن

جو ہم تک آئیں ہم تو ان کو پیمانے سمجھتے ہیں

غمِ جاناں لیے بیٹھے ہیں آغوشِ تصور میں

غمِ دوراں کو اب کیا چیز دِیوانے سمجھتے ہیں

نہیں معلوم یہ خوش فہمیاں کس روز جائیں گی

ابھی تک لوگ مے خانوں کو میخانے سمجھتے ہیں

بقیدِ ہوش رہ کر بھی جنہیں جِینا نہیں آتا

خدا کی شان ہے وہ ہم کو دِیوانے سمجھتے ہیں

سرِ محفل چھلک پڑتے ہیں میری تشنہ کامی پر

جسے ساقی نہ سمجھا اس کو پیمانے سمجھتے ہیں

غرورِ حُسن، نازِ دلبری کو کوئی کیا جانے

یہ ان کی بات ہے یہ ان کے دِیوانے سمجھتے ہیں

گدازِ عشق کے ہی صرف دلدادہ نہیں ناطق

گدازِ عشق کی قیمت بھی پروانے سمجھتے ہیں


ناطق مالوی

No comments:

Post a Comment