Saturday, 7 November 2026

زمیں پر نیم جاں یاری پڑی ہے

 زمِیں پر نِیم جاں یاری پڑی ہے

اِدھر خنجر، اُدھر آری پڑی ہے

میرے ہی سر پہ ہیں اِلزام سارے

بڑی مہنگی وفاداری پڑی ہے

عجب سا خوف پھیلا ہے وطن میں

ہوا کے ہاتھ چنگاری پڑی ہے

بِچھڑ کر ہو گیا برباد وہ بھی

ہمیں بھی چوٹ یہ کاری پڑی ہے

سمندر سے کوئی رِشتہ ہے اس کا

ندی کس واسطے کھاری پڑی ہے


اشفاق منصوری

No comments:

Post a Comment