مِرے لہو کے شناورو! بات یاد رکھنا
کہ بعد میرے لہو مِرے کا ہر ایک قطرہ
چراغ بن کر اندھیری راتوں کو مات دے گا
اور تم یہ بھی سوچ لینا
کہ صُبحِ صادق کی آنکھ والے
تمہارے چہرے پہ خون میرا
جو دیکھ لیں گے تو کیا کہیں گے
ابھی سے سوچو اے رات زادو
تمہاری نسلوں کے مسخ چہروں سے
یہ سیاہی نہیں مِٹے گی
میں کہہ رہا ہوں یہ دیکھ لینا
ڈاکٹر فضل احمد خسرو
No comments:
Post a Comment