Thursday, 5 November 2026

غم دو روزہ نے آرام سے رہنے نہ دیا

 غمِ دو روزہ نے آرام سے رہنے نہ دیا

مجھ کو جی بھر کے تِرا جور بھی سہنے نہ دیا

خُود نُمائی کی ہوا ایسی چلی، جس نے کہِیں

ایک بھی پردہ نشیں پردے میں رہنے نہ دیا

مُوجزن دل میں سمندر تھے، مگر اُن کے حضُور

ضبطِ کم بخت نے اک اشک بھی بہنے نہ دیا

گھر میں محفل میں چمن زاروں میں، صحراؤں میں

بے قراری نے کہیں چین سے رہنے نہ دیا

آگ لگ جائے جگر ایسی وفاداری کو

جس نے قاتل کو بھی قاتل ہمیں کہنے نہ دیا


جگر جالندھری

دھرم پال مرواہا

No comments:

Post a Comment