Thursday, 5 November 2026

خزاں کی زد پہ تھا دشمن کی بھی نگاہ میں تھا

 خِزاں کی زد پہ تھا دُشمن کی بھی نِگاہ میں تھا 

وہ سایہ دار شجر جو ہماری راہ میں تھا 

زمانہ یاد بھی کرتا تو کس طرح ہم کو 

ہمارا نام فقیروں میں تھا نہ شاہ میں تھا 

بُلندیوں سے گِرا تو زمین بھی نہ مِلی 

وجود اپنا سنبھالے ہوئے وہ چاہ میں تھا 

جنہیں غرُور ہواؤں پہ تھا وہ خوار ہوئے 

وہ سر بلند رہا، جو تِری پناہ میں تھا 

مِرے خلاف ہوا ہے جو فیصلہ قیصر

مِرا حریف بھی شامل مِرے گواہ میں تھا


نورالعین قیصر قاسمی

No comments:

Post a Comment