Friday, 6 November 2026

سلگتے چیختے منظر سے کیسے دور رہوں

 سُلگتے چیختے منظر سے کیسے دُور رہُوں

رہوں الگ بھی تو اندر سے کیسے دور رہوں

فضا تو خود ہی ابھی ہے سُلگتے نیزوں پر

بتا کہ ایسے میں منظر سے کیسے دور رہوں

مجھے بنایا گیا آئینہ 𓑀 محبت 💖 سے

اب اس کے بعد بھی پتھر سے کیسے دور رہوں

میں اپنی ذات سے کر لوں گا اِنحراف، مگر

بتا تو مُجھ کو تِرے در سے کیسے دور رہوں

ہے میری ذات ہی ایسی کہ پھیل جائے گی

بھنور ہوں میں بھی سمندر سے کیسے دور رہوں

ہوائے وقت کی یورش سے باخبر ہوں اثر

کوئی بتائے مُجھے گھر سے کیسے دور رہوں


ایم کے اثر

محمد خدادین

No comments:

Post a Comment