نہ دوستوں کے درمیان نہ دُشمنوں کی زد میں ہوں
میں اپنے ہی سپاہیوں کی گولیوں کی زد میں ہوں
مِرے خلاف اک محاذ تو نہیں کُھلا ہُوا
میں بُزدلوں کی صف میں ہوں، مُنافقوں کی زد میں ہوں
محافظوں کے بھیس میں جو میرے آس پاس ہیں
یہ خُونخوار بھیڑیے ہیں، بھیڑیوں کی زد میں ہوں
مِرا حریف ہارنے کے خوف میں ہے مُبتلا
اسی لیے تو آج کل میں سازشوں کی زد میں ہوں
یہ لوگ اپنے دیس میں یُوں بے اماں کِیے گئے
یہ لوگ جیسے دُشمنوں کے فوجیوں کی زد میں ہوں
مشتاق بخاری
No comments:
Post a Comment