یہ ستم مت کیا کرو دیکھو
حال دل سن لیا کرو دیکھو
عشق کا میں نے کب صِلہ چاہا
بے وفا مت کہا کرو دیکھو
بزم میں بے حجاب چل دینا
شرم کچھ تو کیا کرو دیکھو
آج تارے خفا خفا سے ہیں
چاند کو مت چھُوا کرو دیکھو
ایک بدلی سی چھا ہی جائے گی
زُلف کو اب رہا کرو دیکھو
یون تو عرصہ ہوا اسے دیکھے
حال کیا ہے پتہ کرو دیکھو
ہو کے ناراض کہہ گئے روشن
فون اب مت کیا کرو دیکھو
سعدیہ روشن صدیقی
No comments:
Post a Comment