جا کے ان سے کہہ دینا راستے بِچھڑتے ہیں
دل سے دل کے رشتے میں رابطے بچھڑتے ہیں
آنسوؤں کے حلقے میں پھُول سینت رکھے ہیں
خواب کب مُکرتے ہیں، سِلسلے بچھڑتے ہیں
شور سے ہواؤں کے ہے زمین کی نِسبت
موسموں کی سختی سے قافلے بچھڑتے ہیں
ہم نے گِرتے دیکھا ہے دریا میں سمندر کو
پیاس کی کہانی میں فاصلے بچھڑتے ہیں
سوچ میں بندھی گانٹھیں کھولنا ہُنر ٹھہرا
بد حواس پھرنے سے ذائچے بچھڑتے ہیں
سحر حسن
No comments:
Post a Comment