Saturday, 7 November 2026

بہت کردار بدلے جا چکے ہیں

 ہوش باش


بہت کردار بدلے جا چکے ہیں 

کہانی جو کہ تھی اب تک وہی ہے 

یہ لازم ہے کہانی خود کو بدلے 

وگرنہ فیصلے فطرت کرے گی

بڑے بے رحم اس کے ضابطے ہیں 

کسی سے دوستی اس کی نہیں ہے 

ہوا بردوش حیرت کی فضا کو 

کوئی منظر دکھائی دے رہا ہے 

مگر اس میں کہیں بھی تُو نہیں ہے 

مگر اس میں کہیں بھی میں نہیں ہوں 

پلٹتا ہے ورق بس ثانیہ میں 

زباں ملتی ہے یکدم خامشی کو 


 ڈاکٹر فضل احمد خسرو

No comments:

Post a Comment