ہوش باش
بہت کردار بدلے جا چکے ہیں
کہانی جو کہ تھی اب تک وہی ہے
یہ لازم ہے کہانی خود کو بدلے
وگرنہ فیصلے فطرت کرے گی
بڑے بے رحم اس کے ضابطے ہیں
کسی سے دوستی اس کی نہیں ہے
ہوا بردوش حیرت کی فضا کو
کوئی منظر دکھائی دے رہا ہے
مگر اس میں کہیں بھی تُو نہیں ہے
مگر اس میں کہیں بھی میں نہیں ہوں
پلٹتا ہے ورق بس ثانیہ میں
زباں ملتی ہے یکدم خامشی کو
ڈاکٹر فضل احمد خسرو
No comments:
Post a Comment