Sunday, 8 November 2026

تسکین دل جو پائے تو پھر اضطراب کیا

 تسکین دِل جو پائے تو پھر اِضطراب کیا

مجھ کو پتہ نہیں کہ گُنہ کیا، ثواب کیا

تقدیسِ عشق پر نہ کوئی حرف آ سکے

بھٹکے جو راہ سے تو پھر ایسا شباب کیا

ہم جام کے اسِیر نہیں غور سے یہ سُن

آنکھوں سے پی نہ جائے تو پھر وہ شراب کیا

وہ سامنے ہیں اور زباں ہے مِری خموش

نِیچی نِگاہ میں ہیں؛ سوال و جواب کیا

آتش سے جوشِ عشق کی ہو سوختہ جگر

لذّت مِلے نہ غیر کو ایسا کباب کیا


عباس عراقی

غلام عباس بٹ

No comments:

Post a Comment