Tuesday, 17 August 2021

یہ مستقل تو نہیں عارضی محبت ہے

 یہ مستقل تو نہیں عارضی محبت ہے

ہمارے ساتھ تمہیں ظاہری محبت ہے

ہر ایک بات پہ جو مسکرا رہے ہیں آپ

تو کیا میں سمجھوں کہ یہ آپ کی محبت ہے

کسی کے واسطے یہ کھیل ہے، تماشہ ہے

ہمارے واسطے تو شاعری محبت ہے

تمہارا دیکھتے رہنا بھی ہے دلیل، مگر

گلے لگا کے بھی کہہ دو؛ بڑی محبت ہے

یقین مان، تُو میری سمجھ سے باہر ہے

یہ بات بات پہ ناراضگی محبت ہے

مجھے تو پہلے بھی سو بار ہو چکی ہے مگر

تُو پہلی بار مِری آخری محبت ہے


نثار سلہری

No comments:

Post a Comment