یہ مستقل تو نہیں عارضی محبت ہے
ہمارے ساتھ تمہیں ظاہری محبت ہے
ہر ایک بات پہ جو مسکرا رہے ہیں آپ
تو کیا میں سمجھوں کہ یہ آپ کی محبت ہے
کسی کے واسطے یہ کھیل ہے، تماشہ ہے
ہمارے واسطے تو شاعری محبت ہے
تمہارا دیکھتے رہنا بھی ہے دلیل، مگر
گلے لگا کے بھی کہہ دو؛ بڑی محبت ہے
یقین مان، تُو میری سمجھ سے باہر ہے
یہ بات بات پہ ناراضگی محبت ہے
مجھے تو پہلے بھی سو بار ہو چکی ہے مگر
تُو پہلی بار مِری آخری محبت ہے
نثار سلہری
No comments:
Post a Comment