عجیب طرز سے گزری ہے کل کی رات مِری
کہ دل سناتا بھی تھا سنتا بھی تھا بات مری
میں خوش گمان رہا ہار کا سوچا بھی نہ تھا
مگر جو آئی تھی حصے میں وہ تھی مات مری
میں ہار آیا ہوں جس کو انا کی جنگ میں دوست
یقین مان وہ لڑکی تھی کائنات مری
اسی لیے تو میں کہتا رہا کہ چیخنے دو
اٹھا کے ہجر پہ ماری گئی تھی ذات مری
یہ زندگی تو کسی کام کی رہی ہی نہیں
میں تجھ پہ وارنے آیا ہوں یہ حیات مری
نثار سلہری
No comments:
Post a Comment