Saturday, 9 January 2021

میں یہی سمجھتا تھا درد اک پرندہ ہے

 درد ایک پرندہ ہے


میں یہی سمجھتا تھا

درد اک پرندہ ہے

گاہے گاہے جو دل کے

آس پاس آتا ہے

اس کے چہچہانے سے

اس کے گنگنانے سے

میری نظمیں بنتی ہیں

میں نے ٹھیک سمجھا تھا

درد اک پرندہ ہے

اس نے تو مِرے دل میں

گھونسلا بنا ڈالا


افتخار بخاری

No comments:

Post a Comment